چنڈی گڑھ، 31؍ جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)بی ایس ایف کے جوانوں کو خراب کھانے کی پول کھولنے والے تیز بہادر کو نوکری سے نکال دیا گیا تھا، جس کے بعد اب تیج بہادر نے اپنی برطرفی کو پنجاب ہریانہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔بتادیں کہ بہادر نے خراب کھاناکھلائے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کیا تھا۔ اس کے بعد ویڈیو وائرل ہوگئی تھی اورتیج بہادر کو اپنی نوکری سے ہاتھ دھوناپڑاتھا۔کورٹ میں اپنے وکیل ایس پی یادو کے ذریعے دی عرضی میں تیج بہادر نے دلیل دی ہے کہ انہوں نے بی ایس ایف سے اپنی مرضی سے ریٹائرمنٹ کی مانگ کی تھی، جس کی پہلے اجازت دے دی گئی لیکن بعد میں اسے منسوخ کر کے انہیں بغیر کوئی نوٹس دیئے ہی نوکری سے ہٹاکیاگیا۔اپنی درخواست میں تیج بہادر نے عدالت کو بتایا کہ اکتوبر 2015 میں بھی انہوں نے خراب کھانے کی شکایت ایک فوجی تقریب کے دوران کی تھی لیکن بی ایس ایف نے اس کی شکایت پر کوئی کارروائی کرنے کے بجائے انہوں نے اسے 2016 میں ان کاتبادلہ کردیاگیا۔ اس جگہ پر ان کاتبادلہ کیاکہ وہاں بھی فوجیوں کوبہت خراب اور کم کھاناملتاتھا۔تیج بہادر نے دعوی کیا ہے کہ اس نے خراب کھانادئے جانے کاویڈیوانہوں نے خود فیس بک پراپلوڈ نہیں کیاتھا،بلکہ یہ شرارت ان کے کچھ ساتھیوں کی تھی،تیج بہادرکے مطابق 8 جنوری 2017 کو جب اس کے فیس بک اکاؤنٹ پر خراب کھانے کا ویڈیو پوسٹ کیا گیا توانہیں پتہ ہی نہیں چلااورکچھ دیر میں یہ ویڈیو وائرل ہوگیا۔